کلامِ جگرردیف الف
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا
شکست حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیانگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا
دہائی ہے مرے اللہ کی دہائی ہےکسی نے مجھ سے بھی مجھ کو چھپا کے لوٹ لیا
سلام اس پہ کہ جس نے اٹھا کے پردۂ دلمجھی میں رہ کے مجھی میں سما کے لوٹ لیا
انہیں کے دل سے کوئی اس کی عظمتیں پوچھےوہ ایک دل جسے سب کچھ لٹا کے لوٹ لیا
یہاں تو خود تری ہستی ہے عشق کو درکاروہ اور ہوں گے جنہیں مسکرا کے لوٹ لیا
خوشا وہ جان جسے دی گئی امانت عشقرہے وہ دل جسے اپنا بنا کے لوٹ لیا
نگاہ ڈال دی جس پر حسین آنکھوں نےاسے بھی حسن مجسم بنا کے لوٹ لیا
بڑے وہ آئے دل و جاں کے لوٹنے والےنظر سے چھیڑ دیا گدگدا کے لوٹ لیا
رہا خراب محبت ہی وہ جسے تو نےخود اپنا درد محبت دکھا کے لوٹ لیا
کوئی یہ لوٹ تو دیکھے کہ اس نے جب چاہاتمام ہستی دل کو جگا کے لوٹ لیا
کرشما سازی حسن ازل ارے توبہمرا ہی آئینہ مجھ کو دکھا کے لوٹ لیا
نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔنظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا
۱۳ / ۸۹