کلامِ جگرردیف الف

کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا

۱

کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیاجس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا

۲

جب اس رخ پر نور کا جلوہ نظر آیاکعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا

۳

یہ حسن یہ شوخی یہ کرشمہ یہ ادائیںدنیا نظر آئی مجھے تو کیا نظر آیا

۴

اک سرخوشی عشق ہے اک بے خودی شوقآنکھوں کو خدا جانے مری کیا نظر آیا

۵

جب دیکھ نہ سکتے تھے تو دریا بھی تھا قطرہجب آنکھ کھلی قطرہ بھی دریا نظر آیا

۶

قربان تری شان عنایت کے دل و جاںاس کم نگہی پر مجھے کیا کیا نظر آیا

۷

ہر رنگ ترے رنگ میں ڈوبا ہوا نکلاہر نقش ترا نقش کف پا نظر آیا

۸

آنکھوں نے دکھا دی جو ترے غم کی حقیقتعالم مجھے سارا تہ و بالا نظر آیا

۹

ہر جلوے کو دیکھا ترے جلووں سے منورہر بزم میں تو انجمن آرا نظر آیا

۱۵ / ۸۹