کلامِ جگرردیف الف

کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

۱

کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا

۲

جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوقدیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا

۳

ہائے یہ حسن تصور کا فریب رنگ و بومیں یہ سمجھا جیسے وہ جان بہار آ ہی گیا

۴

ہاں سزا دے اے خدائے عشق اے توفیق غمپھر زبان بے ادب پر ذکر یار آ ہی گیا

۵

اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میںدر حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا

۶

ہائے کافر دل کی یہ کافر جنوں انگیزیاںتم کو پیار آئے نہ آئے مجھ کو پیار آ ہی گیا

۷

درد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سےدفعتاً پردہ اٹھا اور پردہ دار آ ہی گیا

۸

دل نے اک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ واربال بکھرائے کوئی مستانہ وار آ ہی گیا

۹

جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پرعمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

۱۶ / ۸۹