کلامِ جگرردیف ے
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئے
حسن ازل کی شان دکھا کر چلے گئےاک واقعہ سا یاد دلا کر چلے گئے
چہرے تک آستین وہ لا کر چلے گئےکیا راز تھا کہ جس کو چھپا کر چلے گئے
رگ رگ میں اس طرح وہ سما کر چلے گئےجیسے مجھی کو مجھ سے چرا کر چلے گئے
میری حیات عشق کو دے کر جنون شوقمجھ کو تمام ہوش بنا کر چلے گئے
سمجھا کے پستیاں مرے اوج کمال کیاپنی بلندیاں وہ دکھا کر چلے گئے
اپنے فروغ حسن کی دکھلا کے وسعتیںمیرے حدود شوق بڑھا کر چلے گئے
ہر شے کو میری خاطر ناشاد کے لیےآئینۂ جمال بنا کر چلے گئے
آئے تھے دل کی پیاس بجھانے کے واسطےاک آگ سی وہ اور لگا کر چلے گئے
آئے تھے چشم شوق کی حسرت نکالنےسر تا قدم نگاہ بنا کر چلے گئے
اب کاروبار عشق سے فرصت مجھے کہاںکونین کا وہ درد بڑھا کر چلے گئے
شکر کرم کے ساتھ یہ شکوہ بھی ہو قبولاپنا سا کیوں نہ مجھ کو بنا کر چلے گئے
لب تھرتھرا کے رہ گئے لیکن وہ اے جگرؔجاتے ہوئے نگاہ ملا کر چلے گئے
۵۳ / ۸۹