کلامِ جگرردیف ے

آدمی آدمی سے ملتا ہے

۱

آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہے

۲

بھول جاتا ہوں میں ستم اس کےوہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے

۳

آج کیا بات ہے کہ پھولوں کارنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے

۴

سلسلہ فتنۂ قیامت کاتیری خوش قامتی سے ملتا ہے

۵

مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتاٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے

۶

کاروبار جہاں سنورتے ہیںہوش جب بے خودی سے ملتا ہے

۷

روح کو بھی مزا محبت کادل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے

۵۲ / ۸۹