کلامِ جگرردیف ے
برابر سے بچ کر گزر جانے والے
۱
برابر سے بچ کر گزر جانے والےیہ نالے نہیں بے اثر جانے والے
۲
نہیں جانتے کچھ کہ جانا کہاں ہےچلے جا رہے ہیں مگر جانے والے
۳
مرے دل کی بیتابیاں بھی لیے جادبے پاؤں منہ پھیر کر جانے والے
۴
ترے اک اشارے پہ ساکت کھڑے ہیںنہیں کہہ کے سب سے گزر جانے والے
۵
محبت میں ہم تو جیے ہیں جئیں گےوہ ہوں گے کوئی اور مر جانے والے
۵۶ / ۸۹