کلامِ جگرردیف ے

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

۱

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہےمرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے

۲

سحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہےخوشی منجملہ و اسباب ماتم ہوتی جاتی ہے

۳

قیامت کیا یہ اے حسن دو عالم ہوتی جاتی ہےکہ محفل تو وہی ہے دل کشی کم ہوتی جاتی ہے

۴

وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہمگر آواز نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے

۵

وہی ہیں شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہےوہی ہے شمع لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے

۶

وہی شورش ہے لیکن جیسے موج تہ نشیں کوئیوہی دل ہے مگر آواز مدھم ہوتی جاتی ہے

۷

وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپناکہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

۵۷ / ۸۹