کلامِ جگرردیف ے
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
۱
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئےاے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئے
۲
دل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئےیہ تم نے کیا کیا مری دنیا میں آ گئے
۳
سب کچھ لٹا کے راہ محبت میں اہل دلخوش ہیں کہ جیسے دولت کونین پا گئے
۴
صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھاوہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
۵
عقل و جنوں میں سب کی تھیں راہیں جدا جداہر پھر کے لیکن ایک ہی منزل پہ آ گئے
۶
اب کیا کروں میں فطرت ناکام عشق کوجتنے تھے حادثات مجھے راس آ گئے
۵۹ / ۸۹