کلامِ جگرردیف ے

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

۱

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہےکچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہے

۲

یہ عمر عشق یوں ہی کیا گنوائی جاتی ہےحیات زندہ حقیقت بنائی جاتی ہے

۳

بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہےضرور کوئی کمی ہے کہ پائی جاتی ہے

۴

ہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہےمگر یہ شرم جو چہرے پہ چھائی جاتی ہے

۵

خدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائےوہ زندگی جو زباں تک ہی پائی جاتی ہے

۶

گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہدیہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے

۷

نہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزامدلوں میں آگ خوشی سے لگائی جاتی ہے

۸

کچھ ایسے بھی تو ہیں رندان پاک باز جگرؔکہ جن کو بے مئے و ساغر پلائی جاتی ہے

۶۰ / ۸۹