کلامِ جگرردیف ے
یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے
۱
یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکےکہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکے
۲
مری تباہیٔ دل پر تو رحم کھا نہ سکےجو روشنی میں رہے روشنی کو پا نہ سکے
۳
نہ جانے آہ کہ ان آنسوؤں پہ کیا گزریجو دل سے آنکھ تک آئے مژہ تک آ نہ سکے
۴
رہ خلوص محبت کے حادثات جہاںمجھے تو کیا مرے نقش قدم مٹا نہ سکے
۵
کریں گے مر کے بقائے دوام کیا حاصلجو زندہ رہ کے مقام حیات پا نہ سکے
۶
نیا زمانہ بنانے چلے تھے دیوانےنئی زمین نیا آسماں بنا نہ سکے
۷۲ / ۸۹