کلامِ جگرردیف ے
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائےجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائےکہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے
دل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائےلب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے
ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائےجنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گیمجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے
حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہوکہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے
معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہچمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے
یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھیکہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے
اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھےنظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے
یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہسبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
۷۱ / ۸۹