کلامِ جگرردیف ے

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

۱

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائےجسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے

۲

وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائےکہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے

۳

دل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائےلب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے

۴

ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائےجنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے

۵

سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گیمجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

۶

حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہوکہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے

۷

معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہچمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے

۸

یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھیکہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے

۹

اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھےنظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے

۱۰

یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہسبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے

۷۱ / ۸۹