کلامِ جگرردیف ے
نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہے
۱
نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہےمجھی کو میری تجلی دکھائی جاتی ہے
۲
قدم قدم مری ہمت بڑھائی جاتی ہےنفس نفس تری آہٹ سی پائی جاتی ہے
۳
وہ اک نظر جو بمشکل اٹھائی جاتی ہےوہی نظر رگ و پے میں سمائی جاتی ہے
۴
سکوں ہے موت یہاں ذوق جستجو کے لیےیہ تشنگی وہ نہیں جو بجھائی جاتی ہے
۵
خدا وہ درد محبت ہر ایک کو بخشےکہ جس میں روح کی تسکین بھی پائی جاتی ہے
۶
وہ مے کدہ ہے تری انجمن خدا رکھےجہاں خیال سے پہلے پلائی جاتی ہے
۷
ترے حضور یہ کیا واردات قلب ہے آجکہ جیسے چاند پہ بدلی سی چھائی جاتی ہے
۸
تجھے خبر ہو تو اتنی نہ فرصت غم دےکہ تیری یاد بھی اکثر ستائی جاتی ہے
۹
وہ چیز کہتے ہیں فردوس گم شدہ جس کوکبھی کبھی تری آنکھوں میں پائی جاتی ہے
۱۰
قریب منزل آخر ہے الفراق جگرؔسفر تمام ہوا نیند آئی جاتی ہے
۷۴ / ۸۹