کلامِ جگرردیف ے

محبت صلح بھی پیکار بھی ہے

۱

محبت صلح بھی پیکار بھی ہےیہ شاخ گل بھی ہے تلوار بھی ہے

۲

طبیعت اس طرف خوددار بھی ہےادھر نازک مزاج یار بھی ہے

۳

ادائے عشق ادائے یار بھی ہےبہت سادہ بہت پرکار بھی ہے

۴

یہ فتنے جن سے اک دنیا ہے نالاںانہیں سے گرمئ بازار بھی ہے

۵

جنوں کے دم سے ہے نظم دو عالمجنوں برہم زن افکار بھی ہے

۶

نفس پر ہے مدار زندگانینفس چلتی ہوئی تلوار بھی ہے

۷

اسی انسان میں سب کچھ ہے پنہاںمگر یہ معرفت دشوار بھی ہے

۸

وہ بوئے گل کہ ہے جان چمن بھیقیامت ہے چمن بے زار بھی ہے

۹

یہی دنیا ہے نسبت آنسوؤں کییہی دنیا تبسم زار بھی ہے

۱۰

جہاں وہ ہیں وہیں میرا تصورجہاں میں ہوں خیال یار بھی ہے

۱۱

خبردار اے سبک ساران ساحلیہ ساحل ہی کبھی منجدھار بھی ہے

۱۲

غنیمت ہے کہ اس دور ہوس میںترا ملنا بہت دشوار بھی ہے

۱۳

جو کوئی سن سکے تو نکہت گلشکست رنگ کی جھنکار بھی ہے

۱۴

ان آنکھوں کی زہے معجز بیانیبہم انکار بھی اقرار بھی ہے

۷۵ / ۸۹