کلامِ جگرردیف ے

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

۱

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے

۲

ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہےاے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے

۳

عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہےکیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے

۴

میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہےشاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے

۵

جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہےنظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے

۶

یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہودست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے

۷

تا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیںمیری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے

۸

جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کراے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے

۹

مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیںقسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے

۱۰

اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہواہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے

۱۱

درد و غم فراق کے یہ سخت مرحلےحیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے

۱۲

اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاںہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

۱۳

ظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکرکیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے

۱۴

ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہےمحدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے

۱۵

کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میںاچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے

۱۶

سر دادگان عشق و محبت کی کیا کمیقاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے

۱۷

اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنارونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

۷۹ / ۸۹