کلامِ جگرردیف ے

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

۱

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچےپہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے

۲

جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچےپھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے

۳

آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچےبات جس کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے

۴

تو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہےدیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے

۵

جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں وہ برےکاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے

۶

بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیےگرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے

۷

تو مرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کراپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے

۸

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیںمیرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

۹

عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہےکچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے

۱۰

جلوے بیتاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگرؔخود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

۸۰ / ۸۹