کلامِ جگرردیف ے

عشق کی داستان ہے پیارے

۱

عشق کی داستان ہے پیارےاپنی اپنی زبان ہے پیارے

۲

کل تک اے درد یہ تپاک نہ تھاآج کیوں مہربان ہے پیارے

۳

سایۂ عشق سے خدا ہی بچائےایک ہی قہر مان ہے پیارے

۴

اس کو کیا کیجئے جو لب نہ کھلیںیوں تو منہ میں زبان ہے پیارے

۵

یہ تغافل بھی ہے نگہ آمیزاس میں بھی ایک شان ہے پیارے

۶

جس نے اے دل دیا ہے اپنا غماس سے تو بد گمان ہے پیارے

۷

دل کا عالم نگاہ کیا جانےیہ تو صرف اک زبان ہے پیارے

۸

میرے اشکوں میں اہتمام نہ دیکھعاشقی کی زبان ہے پیارے

۹

ہم زمانے سے انتقام تو لیںاک حسیں درمیان ہے پیارے

۱۰

عشق کی ایک ایک نادانیعلم و حکمت کی جان ہے پیارے

۱۱

تو نہیں میں ہوں میں نہیں تو ہےاب کچھ ایسا گمان ہے پیارے

۱۲

کہنے سننے میں جو نہیں آتیوہ بھی اک داستان ہے پیارے

۱۳

رکھ قدم پھونک پھونک کر ناداںذرے ذرے میں جان ہے پیارے

۱۴

کس کو دیکھے سے دل کو چوٹ لگیکیوں یہ اتری کمان ہے پیارے

۱۵

تیری برہم خرامیوں کی قسمدل بہت سخت جان ہے پیارے

۱۶

ہاں ترے عہد میں جگرؔ کے سواہر کوئی شادمان ہے پیارے

۸۱ / ۸۹