کلامِ جگرردیف ے
فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے
فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھےجا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھے
اب زباں بھی دے ادائے شکر کے قابل مجھےدرد بخشا ہے اگر تو نے بجائے دل مجھے
یوں تڑپ کر دل نے تڑپایا سر محفل مجھےاس کو قاتل کہنے والے کہہ اٹھے قاتل مجھے
اب کدھر جاؤں بتا اے جذبۂ کامل مجھےہر طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے
روک سکتی ہو تو بڑھ کر روک لے منزل مجھےہر طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے
جان دی کہ حشر تک میں ہوں مری تنہائیاںہاں مبارک فرصت نظارۂ قاتل مجھے
ہر اشارے پر ہے پھر بھی گردن تسلیم خمجانتا ہوں صاف دھوکے دے رہا ہے دل مجھے
جا بھی اے ناصح کہاں کا سود اور کیسا زیاںعشق نے سمجھا دیا ہے عشق کا حاصل مجھے
میں ازل سے صبح محشر تک فروزاں ہی رہاحسن سمجھا تھا چراغ کشتۂ محفل مجھے
خون دل رگ رگ میں جم کر رہ گیا اس وہم سےبڑھ کے سینے سے نہ لپٹا لے مرا قاتل مجھے
کیسا قطرہ کیسا دریا کس کا طوفاں کس کی موجتو جو چاہے تو ڈبو دے خشکئ ساحل مجھے
پھونک دے اے غیرت سوز محبت پھونک دےاب سمجھتی ہیں وہ نظریں رحم کے قابل مجھے
توڑ کر بیٹھا ہوں راہ شوق میں پائے طلبدیکھنا ہے جذبۂ بے تابئ منزل مجھے
اے ہجوم ناامیدی شاد باش و زندہ باشتو نے سب سے کر دیا بیگانہ و غافل مجھے
درد محرومی سہی احساس ناکامی سہیاس نے سمجھا تو بہر صورت کسی قابل مجھے
یہ بھی کیا منظر ہے بڑھتے ہیں نہ رکتے ہیں قدمتک رہا ہوں دور سے منزل کو میں منزل مجھے
۸۳ / ۸۹