کلامِ جگرردیف ے
نرگس مستانہ
اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دےمیں جب تجھے جانوں مجھے دیوانہ بنا دے
ہر قید سے ہر رسم سے بیگانہ بنا دےدیوانہ بنا دے مجھے دیوانہ بنا دے
اک برق ادا خرمن ہستی پہ گرا کرنظروں کو مری طور کا افسانہ بنا دے
ہر دل ہے تری بزم میں لبریز مئے عشقاک اور بھی پیمانہ سے پیمانہ بنا دے
تو ساقی مے خانہ بھی تو نشہ و مے بھیمیں تشنۂ ہستی مجھے مستانہ بنا دے
اللہ نے تجھ کو مے و مے خانہ بنایاتو ساری فضا کو مے و مے خانہ بنا دے
تو ساقئ مے خانہ ہے میں رند بلا نوشمیرے لئے مے خانہ کو پیمانہ بنا دے
یا دیدہ و دل میں مرے تو آپ سما جایا پھر دل و دیدہ ہی کو ویرانہ بنا دے
قطرے میں وہ دریا ہے جو عالم کو ڈبو دےذرے میں وہ صحرا ہے کہ دیوانہ بنا دے
لیکن مجھے ہر قید تعین سے بچا کرجو چاہے وہ اے نرگس مستانہ بنا دے
عالم تو ہے دیوانہ جگر! حسن کی خاطرتو اپنے لئے حسن کو دیوانہ بنا دے
کب تک نگہ یار نہ ہوگی متبسمتو اپنا ہر انداز حریفانہ بنا دے
منکر تو نہ بن حسن کے اعجاز نظر کاکہنے کے لئے اپنے کو بیگانہ بنا دے
جب تک کرم خاص کا دریا نہ امنڈ آئےتو اور بھی حال اپنا سفیہانہ بنا دے
بت خانے آ نکلے تو کعبہ کی بنا ڈالکعبے میں پہنچ جائے تو بت خانہ بنا دے
جو موج اٹھے دل سے ترے جوش طلب میںسر رکھ کے وہیں سجدۂ شکرانہ بنا دے
جب مائل الطاف نظر آئے وہ خودبیںتو ہر نگہ شوق کو افسانہ بنا دے
کونین بھی مل جائے تو دامن کو نہ پھیلاکونین کو بھولا ہوا افسانہ بنا دے
پھر عرض کر اس طرح جگرؔ شوق و ادب سےبے باک اگر جرأت رندانہ بنا دے
تجھ کو نگہ یار! قسم میرے جنوں کیناصح کو بھی میرا ہی سا دیوانہ بنا دے
میں ہوں ترے قدموں میں مجھے کچھ نہیں کہنااب جو بھی ترا لطف کریمانہ بنا دے
۸۴ / ۸۹