کلامِ جگرردیف ن

سبھی انداز حسن پیارے ہیں

۱

سبھی انداز حسن پیارے ہیںہم مگر سادگی کے مارے ہیں

۲

اس کی راتوں کا انتقام نہ پوچھجس نے ہنس ہنس کے دن گزارے ہیں

۳

اے سہاروں کی زندگی والوکتنے انسان بے سہارے ہیں

۴

لالہ و گل سے تجھ کو کیا نسبتنا مکمل سے استعارے ہیں

۵

ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گےوہ رہیں شاد جو کنارے ہیں

۶

شب فرقت بھی جگمگا اٹھیاشک غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں

۷

آتش عشق وہ جہنم ہےجس میں فردوس کے نظارے ہیں

۸

وہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نےگیسوئے زندگی سنوارے ہیں

۹

حسن کی بے نیازیوں پہ نہ جابے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں

۳۱ / ۸۹