کلامِ جگرردیف ن

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

۱

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میںکتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

۲

دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میںصرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں

۳

فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میںرحمت کو بے پناہ کئے جا رہا ہوں میں

۴

ایسی بھی اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میںذروں کو مہر و ماہ کئے جا رہا ہوں میں

۵

مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاندخود حسن کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں

۶

دفتر ہے ایک معنئ بے لفظ و صوت کاسادہ سی جو نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

۷

آگے قدم بڑھائیں جنہیں سوجھتا نہیںروشن چراغ راہ کئے جا رہا ہوں میں

۸

معصومئ جمال کو بھی جن پہ رشک ہےایسے بھی کچھ گناہ کئے جا رہا ہوں میں

۹

تنقید حسن مصلحت خاص عشق ہےیہ جرم گاہ گاہ کئے جا رہا ہوں میں

۱۰

اٹھتی نہیں ہے آنکھ مگر اس کے روبرونادیدہ اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

۱۱

گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیزکانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں

۱۲

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیرجیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

۱۳

مجھ سے ادا ہوا ہے جگرؔ جستجو کا حقہر ذرے کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں

۳۰ / ۸۹