کلامِ جگرردیف ن
عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں
بیکراں ہوتا نہیں بے انتہا ہوتا نہیںقطرہ جب تک بڑھ کے قلزم آشنا ہوتا نہیں
اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیںسب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہموت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں
کون یہ ناصح کو سمجھائے بہ طرز دل نشیںعشق صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں
درد سے معمور ہوتی جا رہی ہے کائناتاک دل انساں مگر درد آشنا ہوتا نہیں
میرے عرض غم پہ وہ کہنا کسی کا ہائے ہائےشکوۂ غم شیوۂ اہل وفا ہوتا نہیں
اس مقام قرب تک اب عشق پہنچا ہی جہاںدیدہ و دل کا بھی اکثر واسطا ہوتا نہیں
ہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاجعشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں
اللہ اللہ یہ کمال اور ارتباط حسن و عشقفاصلے ہوں لاکھ دل سے دل جدا ہوتا نہیں
کیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میں جگرؔآدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں
۳۳ / ۸۹