کلامِ جگرردیف ن

عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں

۱

عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیںزندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں

۲

بیکراں ہوتا نہیں بے انتہا ہوتا نہیںقطرہ جب تک بڑھ کے قلزم آشنا ہوتا نہیں

۳

اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیںسب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں

۴

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہموت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

۵

کون یہ ناصح کو سمجھائے بہ طرز دل نشیںعشق صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں

۶

درد سے معمور ہوتی جا رہی ہے کائناتاک دل انساں مگر درد آشنا ہوتا نہیں

۷

میرے عرض غم پہ وہ کہنا کسی کا ہائے ہائےشکوۂ غم شیوۂ اہل وفا ہوتا نہیں

۸

اس مقام قرب تک اب عشق پہنچا ہی جہاںدیدہ و دل کا بھی اکثر واسطا ہوتا نہیں

۹

ہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاجعشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں

۱۰

اللہ اللہ یہ کمال اور ارتباط حسن و عشقفاصلے ہوں لاکھ دل سے دل جدا ہوتا نہیں

۱۱

کیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میں جگرؔآدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں

۳۳ / ۸۹