کلامِ جگرردیف ن
تصویر و تصور
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیںیہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیں
وہی قیامت ہے قد بالا وہی ہے صورت، وہی سراپالبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیں
وہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنممیں نقش حرماں بنا ہوا تھا وہ نقش حیرت بنا رہے ہیں
خرام رنگیں، نظام رنگیں، کلام رنگیں، پیام رنگیںقدم قدم پر، روش روش پر نئے نئے گل کھلا رہے ہیں
شباب رنگیں، جمال رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیںتمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیں
تمام رعنائیوں کے مظہر، تمام رنگینیوں کے منظرسنبھل سنبھل کر سمٹ سمٹ کر سب ایک مرکز پر آ رہے ہیں
بہار رنگ و شباب ہی کیا ستارہ و ماہتاب ہی کیاتمام ہستی جھکی ہوئی ہے، جدھر وہ نظریں جھکا رہے ہیں
طیور سرشار ساغر مل ہلاک تنویر لالہ و گلسب اپنی اپنی دھنوں میں مل کر عجب عجب گیت گا رہے ہیں
شراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے، نظر سے مستی ابل رہی ہےچھلک رہی ہے اچھل رہی ہے، پئے ہوئے ہیں پلا رہے ہیں
خود اپنے نشے میں جھومتے ہیں، وہ اپنا منہ آپ چومتے ہیںخراب مستی بنے ہوئے ہیں، ہلاک مستی بنا رہے ہیں
فضا سے نشہ برس رہا ہے، دماغ پھولوں میں بس رہا ہےوہ کون ہے جو ترس رہا ہے؟ سبھی کو میکش پلا رہے ہیں
زمین نشہ، زمان نشہ، جہان نشہ، مکان نشہمکان کیا؟ لا مکان نشہ، ڈبو رہے ہیں پلا رہے ہیں
وہ روئے رنگیں و موجۂ یم، کہ جیسے دامان گل پہ شبنمیہ گرمیٔ حسن کا ہے عالم، عرق عرق میں نہا رہے ہیں
یہ مست بلبل بہک رہے ہیں، قریب عارض چہک رہے ہےگلوں کی چھاتی دھڑک رہی ہے، وہ دست رنگیں بڑھا رہے ہیں
یہ موج و دریا، یہ ریگ و صحرا یہ غنچہ و گل، یہ ماہ و انجمذرا جو وہ مسکرا دیئے ہیں وہ سب کے سب مسکرا رہے ہیں
فضا یہ نغموں سے بھر گئی ہے کہ موج دریا ٹھہر گئی ہےسکوت نغمہ بنا ہوا ہے، وہ جیسے کچھ گنگنا رہے ہیں
اب آگے جو کچھ بھی ہو مقدر، رہے گا لیکن یہ نقش دل پرہم ان کا دامن پکڑ رہے ہیں، وہ اپنا دامن چھڑا رہے ہیں
یہ اشک جو بہہ رہے ہیں پیہم، اگرچہ سب ہیں یہ حاصل غممگر یہ معلوم ہو رہا ہے، کہ یہ بھی کچھ مسکرا رہے ہیں
ذرا جو دم بھر کو آنکھ جھپکی، یہ دیکھتا ہوں نئی تجلیطلسم صورت مٹا رہے ہیں، جمال معنی بنا رہے ہیں
خوشی سے لبریز شش جہت ہے، زبان پر شور تہنیت ہےیہ وقت وہ ہے جگرؔ کے دل کو وہ اپنے دل سے ملا رہے ہیں
۳۴ / ۸۹