کلامِ جگرردیف ن
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
۱
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
۲
بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیںتوفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں
۳
میری زباں پہ شکوۂ اہل ستم نہیںمجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں
۴
یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیںدامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں
۵
شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتاًتیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں
۶
اب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نوردسایہ نہیں جہاں کوئی نقش قدم نہیں
۷
ملتا ہے کیوں مزہ ستم روزگار میںتیرا کرم بھی خود جو شریک ستم نہیں
۸
مرگ جگرؔ پہ کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریزاک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں
۳۶ / ۸۹