کلامِ جگرردیف ن

یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیں

۱

یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیںزبان حال رکھتے ہیں زبان دل سمجھتے ہیں

۲

جسے سب لوگ حسن و عشق کی منزل سمجھتے ہیںبلند اس سے بھی ہم اپنا مقام دل سمجھتے ہیں

۳

حقیقت میں جو راز دوری منزل سمجھتے ہیںانہیں کو ہم سلوک عشق میں کامل سمجھتے ہیں

۴

ہمیں کیوں وہ جفائے خاص کے قابل سمجھتے ہیںیہ راز دل ہے اس کو محرمان دل سمجھتے ہیں

۵

اسی اک جرم پر اغیار میں برپا قیامت ہےکہ ہم بیدار ہیں اور اپنا مستقبل سمجھتے ہیں

۶

نگاہوں میں کچھ ایسے بس گئے ہیں حسن کے جلوےکوئی محفل ہو لیکن ہم تری محفل سمجھتے ہیں

۷

کوئی مانے نہ مانے اس کو لیکن یہ حقیقت ہےہم اپنی زندگی میں غیب کو شامل سمجھتے ہیں

۸

یہ نرم و ناتواں موجیں خودی کا راز کیا جانیںقدم لیتے ہیں طوفاں عظمت ساحل سمجھتے ہیں

۹

حکومت کے مظالم جب سے ان آنکھوں نے دیکھے ہیںجگرؔ ہم بمبئی کو کوچۂ قاتل سمجھتے ہیں

۳۷ / ۸۹