کلامِ جگرمثنویات، مراثی و دیگر
کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشنلاکھ بلائیں ایک نشیمن
قاتل رہبر قاتل رہزندل سا دوست نہ دل سا دشمن
پھول کھلے ہیں گلشن گلشنلیکن اپنا اپنا دامن
عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہےعشق ہے کار شیشہ و آہن
خیر مزاج حسن کی یاربتیز بہت ہے دل کی دھڑکن
آ کہ نہ جانے تجھ بن کب سےروح ہے لاشہ جسم ہے مدفن
آج نہ جانے راز یہ کیا ہےہجر کی رات اور اتنی روشن
عمریں بیتیں صدیاں گزریںہے وہی اب تک عشق کا بچپن
تجھ سا حسیں اور خون محبتوہم ہے شاید سرخی دامن
برق حوادث اللہ اللہجھوم رہی ہے شاخ نشیمن
تو نے سلجھ کر گیسوئے جاناںاور بڑھا دی شوق کی الجھن
رحمت ہوگی طالب عصیاںرشک کرے گی پاکئ دامن
دل کہ مجسم آئینہ ساماںاور وہ ظالم آئینہ دشمن
بیٹھے ہم ہر بزم میں لیکنجھاڑ کے اٹھے اپنا دامن
ہستئ شاعر اللہ اللہحسن کی منزل عشق کا مسکن
رنگیں فطرت سادہ طبیعتفرش نشیں اور عرش نشیمن
کام ادھورا اور آزادینام بڑے اور تھوڑے درشن
شمع ہے لیکن دھندھلی دھندھلیسایا ہے لیکن روشن روشن
کانٹوں کا بھی حق ہے کچھ آخرکون چھڑائے اپنا دامن
چلتی پھرتی چھاؤں ہے پیارےکس کا صحرا کیسا گلشن
۸۷ / ۸۹