کلامِ میرردیف ع
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع
۱
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفعکڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع
۲
کب تلک ان بتوں سے چشم رہےہو رہے گا بس اب خدا سے نفع
۳
میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع
۴
مغتنم جان گر کسو کے تئیںپہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع
۵
اب فقیروں سے کہہ حقیقت دلمیرؔ شاید کہ ہو دعا سے نفع
۱۴۸ / ۵۸۲