کلامِ میرردیف ط

شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط

۱

شاید اس سادہ نے رکھا ہے خطکہ ہمیں متصل لکھا ہے خط

۲

شوق سے بات بڑھ گئی تھی بہتدفتر اس کو لکھیں ہیں کیا ہے خط

۳

نامہ کب یار نے پڑھا سارانہ کہا یہ بھی آشنا ہے خط

۴

ساتھ ہم بھی گئے ہیں دور تلکجب ادھر کے تئیں چلا ہے خط

۵

کچھ خلل راہ میں ہوا اے میرؔنامہ بر کب سے لے گیا ہے خط

۱۴۷ / ۵۸۲