کلامِ میرردیف الف

آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا

۱

آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپامیں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا

۲

تیرے کوچے میں مری خاک بھی پامال ہوئیتھا وہ بے درد مجھے جن نے وفا کو سونپا

۳

اب تو جاتا ہی ہے کعبے کو تو بت خانے سےجلد پھر پہنچیو اے میرؔ خدا کو سونپا

۱ / ۵۸۲