کلامِ میرردیف الف
آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
۱
آگے جمال یار کے معذور ہو گیاگل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا
۲
اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہجوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا
۳
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تبدروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا
۴
پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبولجو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہو گیا
۵
دیکھا یہ ناؤ نوش کہ نیش فراق سےسینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا
۶
اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہاب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا
۷
شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹمیری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا
۸
لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہواجب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا
۹
دیکھا جو میں نے یار تو وہ میرؔ ہی نہیںتیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا
۲ / ۵۸۲