کلامِ میرردیف الف
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
۱
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیاقسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا
۲
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناکمژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
۳
آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سےواعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
۴
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوشآیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا
۵
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیارویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا
۶
احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحمجس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا
۷
منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئےشب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا
۴ / ۵۸۲