کلامِ میرردیف الف
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
۱
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہواچھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
۲
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلےآتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
۳
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیںکچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
۴
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیںمعلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
۵
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجلاے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
۶
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
۷
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پرکیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
۵ / ۵۸۲