کلامِ میرردیف الف

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا

۱

ادھر آ کر شکار افگن ہمارامشبک کر گیا ہے تن ہمارا

۲

گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہےہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا

۳

گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنےسبھوں پر حال ہے روشن ہمارا

۴

بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردموہ ہے عین بلا مسکن ہمارا

۵

ہوا رونے سے راز دوستی فاشہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا

۶

بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکننہ منت کش ہوا گلشن ہمارا

۷

چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیںسنا ہوگا کبھو شیون ہمارا

۸

کیا تھا ریختہ پردہ سخن کاسو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا

۹

نہ بہکے میکدے میں میرؔ کیوں کرگرو سو جا ہے پیراہن ہمارا

۸ / ۵۸۲