کلامِ میرردیف الف

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا

۱

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گااے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

۲

ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یارسر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا

۳

ہم رہروان راہ فنا ہیں برنگ عمرجاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا

۴

پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دلتو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا

۵

اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھردیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا

۶

اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاکپھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا

۷

ہم بے خود ان محفل تصویر اب گئےآئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا

۸

گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کنسنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا

۹

ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کرپر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا

۱۰

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آنادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

۷ / ۵۸۲