باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گاپڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
About this couplet
This is couplet 1 of 4 in “باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱ / ۴