کلامِ میرردیف الف

بارہا گور دل جھنکا لایا

۱

بارہا گور دل جھنکا لایااب کے شرط وفا بجا لایا

۲

قدر رکھتی نہ تھی متاع دلسارے عالم میں میں دکھا لایا

۳

دل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیشایک عالم کے سر بلا لایا

۴

سب پہ جس بار نے گرانی کیاس کو یہ ناتواں اٹھا لایا

۵

دل مجھے اس گلی میں لے جا کراور بھی خاک میں ملا لایا

۶

ابتدا ہی میں مر گئے سب یارعشق کی کون انتہا لایا

۷

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔپھر ملیں گے اگر خدا لایا

۱۰ / ۵۸۲