کلامِ میرردیف الف
تا بہ مقدور انتظار کیا
۱
تا بہ مقدور انتظار کیادل نے اب زور بے قرار کیا
۲
دشمنی ہم سے کی زمانے نےکہ جفاکار تجھ سا یار کیا
۳
یہ توہم کا کارخانہ ہےیاں وہی ہے جو اعتبار کیا
۴
ایک ناوک نے اس کی مژگاں کےطائر سدرہ تک شکار کیا
۵
صد رگ جاں کو تاب دے باہمتیری زلفوں کا ایک تار کیا
۶
ہم فقیروں سے بے ادائی کیاآن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
۷
سخت کافر تھا جن نے پہلے میرؔمذہب عشق اختیار کیا
۱۱ / ۵۸۲