کلامِ میرردیف الف
کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا
۱
کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھارو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا
۲
قاصد جو واں سے آیا تو شرمندہ میں ہوابیچارہ گریہ ناک گریباں دریدہ تھا
۳
اک وقت ہم کو تھا سر گریہ کہ دشت میںجو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدہ تھا
۴
جس صید گاہ عشق میں یاروں کا جی گیامرگ اس شکار گہ کا شکار رمیدہ تھا
۵
کوری چشم کیوں نہ زیارت کو اس کی آئےیوسف سا جس کو مد نظر نوردیدہ تھا
۶
افسوس مرگ صبر ہے اس واسطے کہ وہگل ہائے باغ عشرت دنیا نچیدہ تھا
۷
مت پوچھ کس طرح سے کٹی رات ہجر کیہر نالہ میری جان کو تیغ کشیدہ تھا
۸
حاصل نہ پوچھ گلشن مشہد کا بوالہوسیاں پھل ہر اک درخت کا حلق بریدہ تھا
۹
دل بے قرار گریۂ خونیں تھا رات میرؔآیا نظر تو بسمل در خوں تپیدہ تھا
۱۰۱ / ۵۸۲