کلامِ میرردیف الف

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا

۱

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیاقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

۲

بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پرجو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا

۳

کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیںکھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا

۴

مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیںایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا

۵

میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغجب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا

۱۰۲ / ۵۸۲