کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیںکھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا
About this couplet
This is couplet 3 of 5 in “کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۳ / ۵