کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم توگرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
About this couplet
This is couplet 3 of 10 in “کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۳ / ۱۰