کلامِ میرردیف الف
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
۱
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
۲
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کےگل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
۳
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم توگرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
۴
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہودل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
۵
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکیمیں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
۶
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئیرخساروں کو گو تو نے برقع سے چھپا رکھا
۷
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیںجھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
۸
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نےسو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
۹
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کیمیں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
۱۰
قطعی ہے دلیل اے میرؔ اس تیغ کی بے آبیرحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
۱۱۰ / ۵۸۲