خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا
کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میرؔناکردہ جرم میں تو گنہ گار ہو گیا
About this couplet
This is couplet 9 of 9 in “خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۹ / ۹