کلامِ میرردیف الف
خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا
۱
خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیاگل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا
۲
کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدرمیں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا
۳
میں نو دمیدہ بال چمن زاد طیر تھاپر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا
۴
ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کاسینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا
۵
ہے اس کے حرف زیر لبی کا سبھوں میں ذکرکیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا
۶
تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھوہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا
۷
کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کیدل دار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا
۸
آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمہارے ساتھکچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا
۹
کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میرؔناکردہ جرم میں تو گنہ گار ہو گیا
۳۰ / ۵۸۲