کلامِ میرردیف الف
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا
۱
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گاوابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
۲
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکناس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
۳
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایاپر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
۴
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلادتا حشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا
۵
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغمحشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
۶
جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگزتا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا
۷
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کیجب تک جئے گا میرؔ پشیمان رہے گا
۳۶ / ۵۸۲