کلامِ میرردیف الف

دل جو زیر غبار اکثر تھا

۱

دل جو زیر غبار اکثر تھاکچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

۲

اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکنرات دن ہم تھے اور بستر تھا

۳

سرسری تم جہاں سے گزرےورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

۴

دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تمیہ ہمارا بھی ناز پرور تھا

۵

بعد یک عمر جو ہوا معلومدل اس آئینہ رو کا پتھر تھا

۶

بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغکب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا

۷

کیوں نہ ابر سیہ سفید ہواجب تلک عہد دیدۂ تر تھا

۸

اب خرابہ ہوا جہان آبادورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا

۹

بے زری کا نہ کر گلا غافلرہ تسلی کہ یوں مقدر تھا

۱۰

اتنے منعم جہان میں گزرےوقت رحلت کے کس کنے زر تھا

۱۱

صاحب جاہ و شوکت و اقبالاک ازاں جملہ اب سکندر تھا

۱۲

تھی یہ سب کائنات زیر نگیںساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا

۱۳

لعل و یاقوت ہم زر و گوہرچاہیے جس قدر میسر تھا

۱۴

آخر کار جب جہاں سے گیاہاتھ خالی کفن سے باہر تھا

۱۵

عیب طول کلام مت کریوکیا کروں میں سخن سے خوگر تھا

۱۶

خوش رہا جب تلک رہا جیتامیرؔ معلوم ہے قلندر تھا

۳۵ / ۵۸۲