کلامِ میرردیف الف

دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا

۱

دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہماراہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا

۲

پلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھیان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا

۳

دنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیےکیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا

۴

ہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھواس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا

۵

جوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصتقصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا

۶

کوچے میں اس کے جا کر بنتا نہیں پھر آناخون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا

۷

ہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سےاس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا

۸

سیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میںجوں ابر روتے ہوگا جس دم گزر ہمارا

۹

نشوونما ہے اپنی جوں گرد باد انوکھیبالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا

۱۰

یوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونادامن سے باندھ دامن اے ابر تر ہمارا

۱۱

جب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کاتھمتا نہیں ہے رونا دو دوپہر ہمارا

۱۲

اس کارواں سرا میں کیا میرؔ بار کھولیںیاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا

۳۸ / ۵۸۲