کلامِ میرردیف الف
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
۱
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھااب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
۲
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہکس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
۳
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیںواں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
۴
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیادل بھی مرا جریدۂ عالم میں فرد تھا
۵
تھا پشتہ ریگ باد یہ اک وقت کارواںیہ گرد باد کوئی بیاباں نورد تھا
۶
گزری مدام اس کی جوانان مست میںپیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
۷
عاشق ہیں ہم تو میرؔ کے بھی ضبط عشق کےدل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
۳۹ / ۵۸۲