کلامِ میرردیف الف
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
۱
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلاموم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
۲
داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتابکس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا
۳
جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھراجو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کر نکلا
۴
دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھجانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا
۵
اشک تر قطرۂ خوں لخت جگر پارۂ دلایک سے ایک عدد آنکھ سے بہہ کر نکلا
۶
کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نےاس دفینے میں سے اقسام جواہر نکلا
۷
ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میرؔپر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
۷۵ / ۵۸۲