کلامِ میرردیف الف

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا

۱

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

۲

پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میریمیں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا

۳

میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہاک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا

۴

بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا توپرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا

۵

استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میںواں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا

۶

وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہآنکھوں کو غزالوں کی پاؤں تلے مل جاتا

۷

بے تاب و تواں یوں میں کاہے کو تلف ہوتایاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا

۸

اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنیوہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا

۹

مارا گیا تب گزرا بوسے سے ترے لب کےکیا میرؔ بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا

۷۴ / ۵۸۲