موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا

ستم میں غم میں سرانجام اس کا کیا کہیےہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا

About this couplet

This is couplet 9 of 12 in “⁨موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۲